صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۸ - فوت شدہ کی نذر
فوت شدہ کی نذر کی حدیث: ماں کی طرف سے نذر ادا کرنا
صحیح بخاری : ۶۶۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ : " أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيّ ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَأَفْتَاهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا " ، فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدُ .
سعد بن عبادہ روایت:
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہیں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ باقی تھی اور ان کی موت نذر پوری کرنے سے پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتویٰ دیا کہ نذر وہ اپنی ماں کی طرف سے پوری کر دیں۔ چنانچہ بعد میں یہی طریقہ مسنونہ قرار پایا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۸ کا خلاصہ
یہ حدیث فوت شدہ شخص کی نذر کے بارے میں ہے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ کے ذمہ ایک نذر باقی تھی اور وہ اسے ادا کرنے سے پہلے وفات پا گئیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں فتویٰ دیا کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے نذر پوری کر دیں۔ روایت کے آخر میں آیا کہ بعد میں یہی طریقہ سنت قرار پایا۔ اس حدیث کا اصل موضوع یہی ہے کہ ایک شخص اپنی فوت شدہ والدہ کی باقی نذر ادا کرے۔ یہاں نذر کی نوعیت تفصیل سے بیان نہیں ہوئی، اس لیے اسی حد تک بات رکھنی چاہیے۔ حدیث والدین کے حق، ذمہ داری اور عبادت سے متعلق باقی کام کو سنجیدگی سے لینے کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فوت شدہ والدہ کی باقی نذر اولاد ادا کر سکتی ہے، جیسا کہ اس واقعے میں آیا۔
- نذر کو ذمہ داری سمجھ کر پورا کرنے کا پہلو سامنے آتا ہے۔
- حدیث میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبوی فتویٰ بیان ہوا ہے۔
