صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۹ - حج کی نذر اور قرض

حج کی نذر کی حدیث: اللہ کا قرض ادا کرو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۹۹

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّ أُخْتِي قَدْ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاقْضِ اللَّهَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ " .

ابن عباس روایت:

ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کا قرض پورا ادا کیا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۹ کا خلاصہ

یہ حدیث حج کی نذر اور فوت شدہ شخص کی ذمہ داری سے متعلق ہے۔ ایک شخص نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی، مگر وہ وفات پا گئی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟ اس نے کہا: ضرور ادا کرتا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرض ادا کرو، کیونکہ وہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔ اس حدیث میں نذر کو قرض کی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ خاص طور پر حج کی نذر کا ذکر ہے، اور یہ بتایا گیا کہ اللہ کے لیے مانی ہوئی ذمہ داری کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ متن میں اصل زور نذر کی ادائیگی اور اللہ کے حق پر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج کی نذر کو ذمہ داری کے طور پر لیا گیا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کے حق کو قرض کی مثال سے سمجھایا۔
  • فوت شدہ کی باقی دینی ذمہ داری کے بارے میں سوال کرنا درست طریقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں