صحیح بخاری حدیث ۶۷۰ - گھر میں نفل نماز
گھر میں نفل نماز کی مثال
صحیح بخاری : ۶۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۰
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ : إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَكَ وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا ، " فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ صَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسِ : أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ، قَالَ : مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ .
انس روایت:
انصار میں سے ایک مرد نے عذر پیش کیا کہ میں آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو سکتا اور وہ موٹا آدمی تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چٹائی بچھا دی اور اس کے ایک کنارہ کو (صاف کر کے) دھو دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بوریے پر دو رکعتیں پڑھیں۔آل جارود کے ایک شخص (عبدالحمید) نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اس دن کے سوا اور کبھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۰ کا خلاصہ
ایک انصاری صحابی کی دعوت پر نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے گھر میں دو رکعت نماز ادا کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت قبول کرنا اچھا عمل ہے
- گھر میں نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے
- آسانی کے ساتھ عبادت کریں
