صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۱ - خود کو مشقت میں ڈالنا

خود کو مشقت میں ڈالنے کی حدیث: اللہ کو ایسی اذیت کی حاجت نہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۰۱

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ وَرَآهُ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ " ، وَقَالَ الْفَزَارِيُّ : عَنْ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس سے بےپروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا اور فزاری نے بیان کیا، ان سے حمید نے، ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۱ کا خلاصہ

یہ حدیث عبادت یا نذر کے نام پر خود کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنے کے بارے میں اہم اشارہ دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بےپروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔ حدیث کے متن میں تفصیل کم ہے، مگر بات بہت صاف ہے کہ اپنی جان کو اذیت دینا دینی خوبی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ نذر اور عبادت میں اصل چیز اللہ کی اطاعت ہے، نہ کہ جسم کو ایسی تکلیف دینا جس کا حکم نہ ہو۔ اس روایت کو پڑھتے ہوئے حد سے بڑھی ہوئی سختی کے بجائے نبوی اعتدال سامنے رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اپنی جان کو غیر ضروری اذیت دینا پسندیدہ انداز نہیں بتایا گیا۔
  • عبادت میں اعتدال اور اطاعت کا پہلو اہم ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس شخص کے عمل پر واضح تنبیہ فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں