صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۲ - طواف میں غیر ضروری قید
طواف کی حدیث: لگام کے ساتھ طواف کو کاٹ دیا گیا
صحیح بخاری : ۶۷۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَى رَجُلًا يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِزِمَامٍ أَوْ غَيْرِهِ ، فَقَطَعَهُ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کعبہ کا طواف لگام یا اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۲ کا خلاصہ
یہ حدیث طواف کے دوران غیر معمولی اور غیر ضروری قید کے ایک واقعے کو بیان کرتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کعبہ کا طواف لگام یا کسی اور چیز کے ذریعے کر رہا تھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے کاٹ دیا۔ روایت مختصر ہے، مگر اس کا انداز واضح ہے کہ طواف جیسی عبادت میں ایسی شکل اختیار نہیں کی گئی جس میں انسان کو کسی لگام یا بندھن سے باندھا جائے۔ یہ حدیث نذر، عبادت اور جسمانی مشقت کے باب میں بھی سمجھی جاتی ہے، کیونکہ قریب کی روایات میں غیر ضروری مشقت سے روکا گیا ہے۔ متن کے مطابق اصل بات یہی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس بندھن کو باقی نہیں رہنے دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طواف میں غیر ضروری بندھن یا لگام کو باقی نہیں رکھا گیا۔
- عبادت کو ایسی شکل نہیں دینی چاہیے جو متن میں ناپسندیدہ طور پر سامنے آئی ہو۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عملی طور پر اس چیز کو کاٹ دیا۔
