صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۳ - طواف میں عزت اور آسانی کا حکم
طواف کی حدیث: عبادت میں آسانی اور انسان کی عزت
صحیح بخاری : ۶۷۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۰۳
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ : أَنَّ طَاوُسًا ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو کعبہ کا ایک شخص اس طرح طواف کر رہا تھا کہ دوسرا شخص اس کی ناک میں رسی باندھ کر اس کے آگے سے اس کی رہنمائی کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی اپنے ہاتھ سے کاٹ دی، پھر حکم دیا کہ ہاتھ سے اس کی رہنمائی کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ طواف جیسی بڑی عبادت میں بھی انسان کی عزت اور آسانی کا خیال رکھا جائے۔ ایک شخص کعبہ کا طواف کر رہا تھا اور دوسرا شخص اس کی ناک میں رسی باندھ کر اسے آگے لے جا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ پسند نہیں فرمایا اور اپنے ہاتھ سے رسی کاٹ دی۔ پھر حکم دیا کہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر رہنمائی کی جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا نام سختی، تکلیف یا ذلت نہیں ہے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہو تو مدد باعزت طریقے سے کی جائے۔ طواف کی حدیث، کعبہ کا طواف، اور عبادت میں آسانی جیسے موضوعات میں یہ روایت ایک صاف پیغام دیتی ہے کہ دین میں وقار اور نرمی دونوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت میں کسی انسان کو ذلیل کرنے والا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
- مدد کی ضرورت ہو تو ہاتھ سے رہنمائی جیسے نرم اور باعزت طریقے اختیار کیے جائیں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط طریقے کو فوراً درست فرمایا۔
- طواف میں بھی انسان کی عزت اور آسانی کا خیال رکھا گیا ہے۔
