صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۴ - نذر میں غیر ضروری سختی نہیں

نذر کی حدیث: دین میں غیر ضروری مشقت سے بچیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۰۴

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ : فَسَأَلَ عَنْهُ ؟ فَقَالُوا : أَبُو إِسْرَائِيلَ : نَذَرَ أَنْ يَقُومَ ، وَلَا يَقْعُدَ ، وَلَا يَسْتَظِلَّ ، وَلَا يَتَكَلَّمَ ، وَيَصُومَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ ، وَلْيَسْتَظِلَّ ، وَلْيَقْعُدْ ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑے دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل نامی ہیں۔ انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے ہی رہیں گے، بیٹھیں گے نہیں، نہ کسی چیز کے سایہ میں بیٹھیں گے اور نہ کسی سے بات کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ بات کریں، سایہ کے نیچے بیٹھیں اٹھیں اور اپنا روزہ پورا کر لیں۔عبدالوہاب نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نذر کے بارے میں بہت واضح بات سامنے آتی ہے۔ ابواسرائیل نامی شخص نے نذر مانی تھی کہ وہ کھڑے رہیں گے، بیٹھیں گے نہیں، سایہ میں نہیں بیٹھیں گے، کسی سے بات نہیں کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو بات کریں، سایہ میں بیٹھیں، بیٹھ جائیں، اور اپنا روزہ پورا کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے اوپر ایسی سختی لازم کر لے جس میں عبادت کا اصل فائدہ نہ ہو۔ حدیث میں روزہ باقی رکھا گیا، مگر خاموشی، دھوپ میں رہنا اور مسلسل کھڑے رہنا چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ نذر کی حدیث، روزہ کی نذر، اور دین میں آسانی جیسے الفاظ سے تلاش کرنے والے لوگوں کے لیے اس روایت کا پیغام بہت صاف ہے: عبادت وہی بہتر ہے جو شریعت کے مطابق ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نذر کے نام پر بلاوجہ خود کو تکلیف دینا درست طریقہ نہیں۔
  • روزہ ایک معتبر عبادت ہے، اسی لیے اسے مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔
  • خاموش رہنے، دھوپ میں کھڑے رہنے اور نہ بیٹھنے جیسی مشقت کو چھوڑنے کا کہا گیا۔
  • دین میں عمل شریعت کے مطابق ہونا چاہیے، صرف سختی کافی نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں