صحیح بخاری حدیث ۶۷۱۵ - غلام آزاد کرنے کی فضیلت
غلام آزاد کرنے کی حدیث: آگ سے نجات کی فضیلت
صحیح بخاری : ۶۷۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً ، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ ، حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک ٹکڑے کے بدلے آزاد کرنے والے کا ایک ایک ٹکڑا جہنم سے آزاد کرے گا۔ یہاں تک کہ غلام کی شرمگاہ کے بدلے آزاد کرنے والے کی شرمگاہ بھی دوزخ سے آزاد ہو جائے گی۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع غلام آزاد کرنے کی فضیلت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا، یہاں تک کہ شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ بھی۔ حدیث کے الفاظ بہت واضح ہیں، اس لیے اس میں بیان شدہ فضیلت کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔ یہ روایت غلام آزاد کرنے کی حدیث، مسلمان غلام کی آزادی، عتق رقبة، اور جہنم سے نجات جیسے موضوعات سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں اصل زور ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنے کے عمل کی بڑی فضیلت پر ہے۔ یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ اسلام نے آزادی دلانے کے عمل کو نیکی اور اجر والا کام بتایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان غلام کو آزاد کرنا حدیث میں بڑی فضیلت والا عمل بتایا گیا۔
- حدیث میں اجر کو جسم کے اعضا کے بدلے اعضا کی آزادی سے بیان کیا گیا۔
- آزادی دلانا ایک ایسا عمل ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کے طور پر ذکر فرمایا۔
