صحیح بخاری حدیث ۶۷۲۹ - نبی صلى الله عليه وسلم کا چھوڑا مال صدقہ ہے

نبی صلى الله عليه وسلم کے ترکہ کا حکم: خرچ کے بعد باقی مال صدقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۲۹

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، فَهُوَ صَدَقَةٌ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہیں ہو گا۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچہ اور اپنے عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۷۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے چھوڑے ہوئے مال کے بارے میں واضح بات فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہیں ہو گا۔ پھر فرمایا کہ بیویوں کے خرچ اور عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں، وہ صدقہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا اصل موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کی وراثت اور نبوی صدقہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ جن لوگوں کا خرچ یا اجرت متعلق تھی، اس کا ذکر الگ طور پر آیا ہے۔ اس لیے وضاحت کرتے ہوئے یہی کہنا درست ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا مال عام وراثت کی طرح تقسیم نہیں کیا جاتا، بلکہ بیان کردہ خرچوں کے بعد باقی مال صدقہ ہوتا ہے۔ اس حدیث میں “نبی کی وراثت”، “ترکہ رسول” اور “صدقہ” جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کا ورثہ دینار کی صورت میں تقسیم نہیں ہوتا۔
  • بیویوں کے خرچ کا ذکر اس حدیث میں خاص طور پر آیا ہے۔
  • عاملوں کی اجرت کے بعد بچنے والا مال صدقہ ہے۔
  • مالی معاملات میں ہر حق دار کا حق واضح رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں