صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۰ - ازواج مطہرات اور وراثت کا مسئلہ
ازواج مطہرات اور نبی صلى الله عليه وسلم کی وراثت کا حکم
صحیح بخاری : ۶۷۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۳۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " .
عائشہ روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیویوں نے چاہا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، اپنی میراث طلب کرنے کے لیے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے یاد دلایا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے؟
صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات کے بعد ازواج مطہرات کے ایک ارادے کا ذکر ہے کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تاکہ اپنی میراث طلب کریں۔ اس موقع پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان یاد دلایا کہ “ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے۔” حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا چھوڑا ہوا مال عام وراثت نہیں بنتا۔ یہ بات خود ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یاد دلائی۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی بات تک محدود رہنی چاہیے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے ترکہ کا حکم صدقہ ہے، وراثت نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان کو یاد رکھنا اور یاد دلانا دین کی سمجھ کا حصہ ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کا چھوڑا ہوا مال وراثت کے طور پر تقسیم نہیں ہوتا۔
- ازواج مطہرات کے معاملے میں بھی یہی نبوی حکم یاد دلایا گیا۔
- شرعی مسئلے میں ذاتی مطالبے سے پہلے حدیث کو دیکھا جاتا ہے۔
