صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۱ - قرض دار مسلمان اور وارثوں کا حق
قرض دار مومن، وارثوں کا حق اور نبی صلى الله عليه وسلم کی ذمہ داری
صحیح بخاری : ۶۷۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۳۱
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً ، فَعَلَيْنَا قَضَاؤُهُ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَلِوَرَثَتِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مومنوں کا خود ان سے زیادہ حقدار ہوں۔ پس ان میں سے جو کوئی قرض دار مرے گا اور ادائیگی کے لیے کچھ نہ چھوڑے گا تو ہم پر اس کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو گا وہ اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ “میں مومنوں کا خود ان سے زیادہ حقدار ہوں۔” پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک اہم مالی اصول بیان فرمایا۔ اگر کوئی مسلمان اس حال میں فوت ہو کہ اس پر قرض ہو اور وہ ادائیگی کے لیے مال نہ چھوڑے، تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس کی ادائیگی ہمارے ذمے ہے۔ اور اگر وہ مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع قرض، ذمہ داری، اور وراثت ہے۔ اس میں یہ فرق صاف ہے کہ قرض کی صورت الگ ہے اور مال چھوڑنے کی صورت الگ۔ اس لیے “قرض دار کی حدیث”، “وارثوں کا حق” اور “مومنوں کا ولی” جیسے الفاظ اس حدیث کے معنی سے قریب ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض کو سنجیدہ مالی ذمہ داری سمجھا گیا ہے۔
- جو شخص مال چھوڑے، وہ مال اس کے وارثوں کا حق ہے۔
- حدیث میں قرض دار مومن کے معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ذمہ داری بیان ہوئی ہے۔
- مال اور قرض کے احکام کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔
