صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۵ - وارثوں کو ان کا حق دو
وارثوں کو حق پہنچانے کی حدیث: میراث کا صاف اصول
صحیح بخاری : ۶۷۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۳۵
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ ، فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پہلے میراث ان کے وارثوں تک پہنچا دو اور جو باقی رہ جائے وہ اس کو ملے گا جو مرد میت کا بہت نزدیکی رشتہ دار ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے میراث کی تقسیم کا ایک واضح اصول بیان فرمایا۔ پہلے میراث ان وارثوں تک پہنچائی جائے جو اس کے حق دار ہیں۔ پھر جو کچھ باقی رہ جائے، وہ اس مرد کو دیا جائے جو میت کا بہت قریبی رشتہ دار ہو۔ اس روایت میں “میراث”، “وارثوں کا حق” اور “قریبی مرد رشتہ دار” کے الفاظ اصل معنی کو سمجھاتے ہیں۔ یہ حدیث 6732 اور 6737 کے مضمون سے ملتی جلتی ہے، لیکن یہاں بھی بات وہی ہے کہ مال کی تقسیم ترتیب کے ساتھ ہو۔ پہلے مقرر حق، پھر باقی مال کا فیصلہ۔ اس حدیث میں کوئی خاص خاندان یا خاص فرد کا واقعہ نہیں، بلکہ میراث کی تقسیم کا عام اصول بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وراثت میں پہلے حق داروں کو ان کا حصہ دیا جائے۔
- بچنے والا مال قریب ترین مرد رشتہ دار کے لیے ہے۔
- میراث کی تقسیم میں ترتیب اور حق کا خیال ضروری ہے۔
- کسی کا حق روکنا حدیث کے بیان کردہ اصول کے خلاف ہے۔
