صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۶ - بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث
بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
صحیح بخاری : ۶۷۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۳۶
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَيْسٍ ، سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : " سُئِلَ أَبُو مُوسَى ، عَنْ بِنْتٍ ، وَابْنَةِ ابْنٍ ، وَأُخْتٍ ، فَقَالَ : لِلْبِنْتِ النِّصْفُ ، وَلِلْأُخْتِ النَّصْفُ " ، وَأَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَا بِعْنِي ، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ " أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِلْابْنَةِ النِّصْفُ ، وَلِابْنَةِ ابْنٍ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ " . فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى ، فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ .
ہزیل بن شرحبیل روایت:
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور بہن کو آدھا ملے گا اور تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے یہاں جا، شاید وہ بھی یہی بتائیں گے۔پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر ایسا فتویٰ دوں تو گمراہ ہو چکا اور ٹھیک راستے سے بھٹک گیا۔ میں تو اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، اس طرح دو تہائی پوری ہو جائے گی اور پھر جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ان تک پہنچائی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ عالم تم میں موجود ہیں مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث کا مسئلہ آیا ہے۔ پہلے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بیٹی کو آدھا اور بہن کو آدھا بتایا، اور سوال کرنے والے کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کیا تھا: بیٹی کو آدھا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو تہائی مکمل ہو جائیں، اور جو باقی بچے وہ بہن کو ملے۔ پھر جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی گئی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ عالم تم میں موجود ہیں، مجھ سے سوال نہ کرو۔ اس حدیث کا اصل موضوع میراث میں درست شرعی حصہ معلوم کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیٹی، پوتی اور بہن کی موجودگی میں حصے الگ الگ بیان ہوئے ہیں۔
- ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فیصلے کو نبی صلى الله عليه وسلم کے فیصلے سے جوڑا۔
- علمی مسئلے میں زیادہ علم والے کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔
- غلطی واضح ہو تو حق بات کو مان لینا چاہیے۔
