صحیح بخاری حدیث ۶۷۴۱ - بیٹی اور بہن کو آدھا آدھا
بیٹی اور بہن کی وراثت: معاذ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
صحیح بخاری : ۶۷۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۴۱
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : " قَضَى فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : النِّصْفُ لِلْابْنَةِ وَالنِّصْفُ لِلْأُخْتِ " . ثُمَّ قَالَ سُلَيْمَانُ : قَضَى فِينَا وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
اسود بن یزید روایت:
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمارے درمیان یہ فیصلہ کیا تھا کہ آدھا بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو۔ پھر سلیمان نے جو اس حدیث کو روایت کیا تو اتنا ہی کہا کہ معاذ نے ہم کنبہ والوں کو یہ حکم دیا تھا یہ نہیں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں ان کے درمیان یہ فیصلہ کیا کہ آدھا حصہ بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو۔ روایت کے آخر میں یہ بھی آیا ہے کہ سلیمان نے بیان کرتے وقت صرف یہ کہا کہ معاذ نے ہمارے درمیان فیصلہ کیا، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے کا ذکر نہیں کیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع بیٹی اور بہن کی میراث ہے۔ یہ 6734 کے مضمون سے قریب ہے، مگر یہاں روایت میں “رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانہ میں” کے الفاظ کا اختلاف بھی نقل ہوا ہے۔ اس لیے وضاحت میں وہی بات رکھی گئی ہے جو حدیث میں آئی: بیٹی آدھا، بہن آدھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس خاص مسئلے میں بیٹی کو آدھا حصہ دیا گیا۔
- اسی خاص مسئلے میں بہن کو آدھا حصہ دیا گیا۔
- میراث کے فیصلے میں موجود وارثوں کو دیکھ کر حصہ مقرر کیا جاتا ہے۔
- روایت کے الفاظ میں جو فرق نقل ہو، اسے احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔
