صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۷ - میراث پہلے حق داروں کو دو
میراث پہلے حق داروں کو: وراثت کی تقسیم کا نبوی اصول
صحیح بخاری : ۶۷۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۳۷
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میراث اس کے حقدار تک پہنچا دو اور جو باقی رہ جائے وہ سب سے قریب والے مرد کو دے دو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۷ کا خلاصہ
یہ حدیث میراث کی تقسیم کا نہایت صاف اصول بتاتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میراث اس کے حقدار تک پہنچا دو، پھر جو باقی رہ جائے وہ سب سے قریب والے مرد کو دے دو۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ وراثت میں پہلے ان لوگوں کا حق ادا ہو جن کے حصے مقرر ہیں۔ اس کے بعد اگر کچھ مال باقی بچے تو وہ قریبی مرد رشتہ دار کے لیے ہے۔ یہ حدیث 6732 اور 6735 کے مضمون سے بہت قریب ہے۔ اس لیے “میراث کی تقسیم حدیث”، “وارثوں کا حق” اور “قریب ترین مرد رشتہ دار” اس کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ حدیث مختصر ہے، مگر وراثت کے نظم کو سمجھنے میں بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میراث میں پہلے حق داروں کا حصہ ادا کیا جائے۔
- باقی مال قریب ترین مرد رشتہ دار کو دیا جائے۔
- وراثت کا معاملہ ترتیب کے ساتھ حل کیا جائے۔
- حق داروں کو نظر انداز کرنا درست طریقہ نہیں۔
