صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۲ - میراث حق داروں تک پہنچاؤ
میراث کی تقسیم: پہلے حق دار، پھر قریب ترین مرد رشتہ دار
صحیح بخاری : ۶۷۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۳۲
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میراث اس کے حق داروں تک پہنچا دو اور جو کچھ باقی بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۳۲ کا خلاصہ
یہ حدیث میراث کی تقسیم کے بنیادی اصول کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میراث اس کے حق داروں تک پہنچا دو۔ اس کے بعد جو کچھ باقی بچے، وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے۔ اس حدیث میں “فرائض”، “میراث کے حق دار” اور “قریبی مرد رشتہ دار” کا مسئلہ آتا ہے۔ اس سے بات سمجھ آتی ہے کہ وراثت میں پہلے مقرر حق والوں کو حصہ دیا جاتا ہے، پھر باقی مال کا حکم بیان ہوتا ہے۔ حدیث میں اضافی تفصیل نہیں دی گئی کہ ہر صورت میں کون کتنا لے گا، اس لیے وضاحت کو اسی اصول تک رکھنا چاہیے۔ یہ روایت ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو “میراث کی حدیث” یا “اسلام میں وراثت کی تقسیم” تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میراث پہلے اس کے شرعی حق داروں تک پہنچائی جائے۔
- حق داروں کے بعد بچنے والا مال قریب ترین مرد رشتہ دار کو دیا جائے۔
- وراثت کی تقسیم ترتیب کے ساتھ ہونی چاہیے۔
- مالی حقوق میں اندازے کے بجائے ثابت حکم کو دیکھا جائے۔
