صحیح بخاری حدیث ۶۷۴۵ - مال وارثوں کا، قرض و عیال کی ذمہ داری
مال وارثوں کا حق ہے، قرض اور عیال کی ذمہ داری کا بیان
صحیح بخاری : ۶۷۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۴۵
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا ، فَمَالُهُ لِمَوَالِي الْعَصَبَةِ ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا أَوْ ضَيَاعًا ، فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلِأُدْعَى لَهُ " . الْكَلُّ : الْعِيَالُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا ولی ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے دو حالتیں بیان فرمائیں۔ اگر کوئی شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو اس کا مال اس کے وارثوں کا حق ہے۔ اور اگر وہ بیوی بچے، عیال یا قرض چھوڑ جائے تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں اس کا ولی ہوں، اس کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔ حدیث کے آخر میں “الکل” کی وضاحت عیال کے طور پر آئی ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع قرض، کفالت، عیال اور وارثوں کا حق ہے۔ یہ روایت 6731 کے مضمون سے قریب ہے، مگر یہاں بیوی بچوں یا بے سہارا ذمہ داری کا ذکر بھی صاف لفظوں میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال چھوڑنے والے کا مال اس کے وارثوں کا حق ہے۔
- قرض یا عیال چھوڑنے والے کے معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی ولایت بیان فرمائی۔
- حدیث میں عیال کی ذمہ داری کو اہم سمجھا گیا ہے۔
- وراثت اور قرض کے معاملات الگ الگ پہلو رکھتے ہیں۔
