صحیح بخاری حدیث ۶۷۴۶ - میراث کے حصے اور قریبی مرد وارث

میراث کی حدیث: وارثوں کے حصے پہلے ادا کریں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۴۶

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میراث اس کے وارثوں تک پہنچا دو اور جو کچھ اس میں سے بچ رہے وہ قریبی عزیز مرد کا حق ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۷۴۶ کا خلاصہ

یہ حدیث میراث کے بنیادی اصول کو بہت صاف انداز میں بتاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میراث اس کے حق دار وارثوں تک پہنچا دو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترکہ بانٹتے وقت پہلے ان لوگوں کا حق ادا کیا جائے جن کے حصے مقرر ہیں۔ پھر اگر مقرر حصوں کے بعد کچھ مال بچ جائے تو وہ قریبی مرد عزیز کا حق ہے۔ اس حدیث میں میراث کی تقسیم، وراثت کے حصے، وارثوں کے حقوق اور قریبی رشتہ دار کے حق کی بات آتی ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ مال کی تقسیم خواہش یا اندازے سے نہیں، بلکہ حق داروں کے مطابق ہونی چاہیے۔ عام آدمی کے لیے سبق یہ ہے کہ مرنے والے کے مال میں ذاتی پسند کے بجائے شرعی حق کو دیکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میراث پہلے ان وارثوں کو دی جائے جن کے حصے مقرر ہیں۔
  • مقرر حصوں کے بعد جو مال بچے وہ قریبی مرد عزیز کے لیے ہے۔
  • ترکہ بانٹنے میں ذاتی رائے کے بجائے حق داروں کا خیال رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں