صحیح بخاری حدیث ۶۷۴۷ - وراثت میں رشتہ داری کا حکم
وراثت کی حدیث: رشتہ داروں کا حق کیسے ثابت ہوا
صحیح بخاری : ۶۷۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۴۷
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ ، قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَكُمْ إِدْرِيسُ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33 قَالَ : " كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، يَرِثُ الْأَنْصَارِيُّ ، الْمُهَاجِرِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ ، لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ " ، فَلَمَّا نَزَلَتْ : وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 قَالَ : نَسَخَتْهَا : وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33 .
عبداللہ بن عباس روایت:
´مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا آپ سے ادریس نے بیان کیا تھا، ان سے طلحہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا` اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «ولكل جعلنا موالي» اور «والذين عقدت أيمانكم» کے متعلق بتلایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو ذوی الارحام کے علاوہ انصار و مہاجرین بھی ایک دوسرے کی وراثت پاتے تھے۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کرائی تھی، پھر جب آیت «جعلنا موالي» نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس نے «والذين عقدت أيمانكم» کو منسوخ کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۴۷ کا خلاصہ
یہ روایت وراثت کے ایک خاص حکم کو بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کے بارے میں بتایا کہ جب مہاجرین مدینہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے ایک وقت ایسا تھا کہ انصار اور مہاجرین ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے، ذوی الارحام کے علاوہ۔ پھر جب آیت نازل ہوئی تو یہ حکم بدل گیا اور وراثت کا تعلق اصل رشتہ داروں کی طرف آ گیا۔ اس حدیث میں وراثت، ذوی الارحام، مہاجرین و انصار اور بھائی چارگی کے حکم کا ذکر ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وراثت کا معاملہ اللہ کے حکم کے تابع ہے، صرف سماجی تعلق یا محبت کی بنیاد پر نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وراثت کا حکم اللہ کے نازل کردہ حکم کے تابع ہے۔
- ابتدائی بھائی چارگی کا ایک خاص وراثتی حکم بعد میں منسوخ ہوا۔
- رشتہ داروں کے حقوق کو میراث میں اصل حیثیت دی گئی۔
