صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۴ - دین کے اختلاف سے وراثت نہیں
دین کے اختلاف میں وراثت کا حکم
صحیح بخاری : ۶۷۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۶۴
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ " .
اسامہ بن زید روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان باپ کافر بیٹے کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر بیٹا مسلمان باپ کا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا، اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔ روایت کا مضمون مختصر ہے، مگر وراثت کے باب میں بہت واضح حکم دیتی ہے۔ یہاں بات خاندان، مال یا ذاتی تعلق کی نہیں بڑھائی گئی، بلکہ صرف یہ اصول بیان ہوا کہ دین کے اختلاف کی صورت میں ایک دوسرے کی میراث نہیں ملتی۔ اس لیے اس حدیث کو مسلمان اور کافر کی وراثت، اختلاف دین میں میراث، اور وراثت کے شرعی موانع کے موضوع میں تلاش کیا جاتا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ میراث کے لیے صرف رشتہ کافی نہیں، بعض شرعی رکاوٹیں بھی ہوتی ہیں۔ اس حدیث میں ایسی ہی ایک رکاوٹ دین کا اختلاف بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔
- کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔
- وراثت میں رشتہ کے ساتھ شرعی شرط بھی دیکھی جاتی ہے۔
