صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۳ - مال وارثوں کا اور قرض ذمہ داری
میراث اور قرض کی حدیث: مال وارثوں کا ہے
صحیح بخاری : ۶۷۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۶۳
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مال چھوڑا (اپنی موت کے بعد) وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا ہے وہ ہمارے ذمہ ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مال چھوڑے، وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بوجھ چھوڑے، وہ ہمارے ذمہ ہے۔ روایت میں میراث اور ذمہ داری دونوں پہلو ساتھ آتے ہیں۔ مرنے والے کا چھوڑا ہوا مال وارثوں کے لیے بتایا گیا، جبکہ قرض یا بوجھ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف نسبت فرمائی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع میراث، وارثوں کا حق، قرض کی ذمہ داری اور ترکہ کا حکم ہے۔ اس میں یہ بات صاف ہے کہ مال کو وارثوں سے الگ نہیں کیا گیا۔ جو لوگ مال وارثوں کا ہے حدیث، وراثت کی حدیث، یا قرض چھوڑنے والے کا حکم تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت مختصر مگر بہت مفید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مرنے والے کا چھوڑا ہوا مال اس کے وارثوں کا ہے۔
- قرض یا بوجھ کو الگ ذمہ داری کے طور پر بیان کیا گیا۔
- میراث میں وارثوں کے حق کو صاف الفاظ میں ذکر کیا گیا۔
