صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۲ - بھانجا گھرانے کا فرد ہے
بھانجا بھی گھرانے کا فرد ہے: رشتہ داری کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۷۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۶۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا بھانجا اس کا ایک فرد ہے۔“ ( «منهم".» یا «من أنفسهم» کے الفاظ فرمائے)۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کسی گھرانے کا بھانجا اسی کا ایک فرد ہے، یا اسی گھرانے میں سے ہے۔ روایت مختصر ہے مگر رشتہ داری کے معنی کو واضح کرتی ہے۔ بھانجا ماں کی طرف سے رشتہ رکھتا ہے، اور اس حدیث میں اسے گھرانے سے وابستہ بتایا گیا۔ اس میں وراثت کے تفصیلی حصوں کا ذکر نہیں، اس لیے اسے صرف اتنا ہی سمجھنا چاہیے کہ خاندانی نسبت اور تعلق میں بھانجے کو گھرانے سے جدا نہیں کیا گیا۔ یہ حدیث بھانجے کی حدیث، رشتہ داری کی حدیث، خاندان کے افراد اور ذوی الارحام کے موضوع سے متعلق ہے۔ عام زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ رشتے صرف ایک طرف سے نہیں دیکھے جاتے، ماں کی طرف کا رشتہ بھی قابل لحاظ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھانجے کو گھرانے سے وابستہ بتایا گیا۔
- ماں کی طرف کے رشتے کو بھی قابل لحاظ رکھا گیا۔
- حدیث رشتہ داری کی نسبت کو آسان الفاظ میں بیان کرتی ہے۔
