صحیح بخاری حدیث ۶۷۶ - گھر کے کام اور نماز
گھر میں نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول
صحیح بخاری : ۶۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۶
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَة ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
اسود بن یزید روایت:
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حکم بن عتبہ نے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج یعنی اپنے گھر والیوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو فوراً (کام کاج چھوڑ کر) نماز کے لیے چلے جاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۶ کا خلاصہ
حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم گھر والوں کی مدد کرتے تھے اور نماز کا وقت ہوتے ہی نماز کے لیے نکل جاتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے کام میں تعاون کریں
- نماز کو اہمیت دیں
- خدمتِ اہل خانہ اچھی عادت ہے
