صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۹ - گھر کے کام اور نماز
گھر کے کام میں مدد: نبی صلى الله عليه وسلم کی گھریلو زندگی کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۳۹
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ ؟ قَالَتْ : " كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
اسود روایت:
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لیے مسجد تشریف لے جاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع گھریلو اخلاق ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے، اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ گھر کے کام میں مدد کی حدیث بہت سادہ مگر عملی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے کام کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تعاون فرماتے تھے، اور نماز کا وقت آتا تو عبادت کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ یہ حدیث گھر والوں کے ساتھ تعاون اور نماز کی پابندی دونوں کو ایک ساتھ دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے کام میں ہاتھ بٹانا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم گھر والوں کے کام کاج میں رہتے تھے۔
- نماز کا وقت آنے پر نماز کو ترجیح دینا چاہیے۔
