صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۸ - خادم کے ساتھ نرمی
خادم کے ساتھ حسن سلوک: نبی صلى الله عليه وسلم کی نرمی کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۳۸
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سَمِعَ سَلَّامَ بْنَ مِسْكِينٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا أَلَّا صَنَعْتَ " .
انس روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نرمی اور حسن سلوک ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، مگر آپ نے کبھی انہیں اف تک نہیں کہا۔ نہ یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا، اور نہ یہ کہ یہ کام کیوں نہیں کیا۔ خادم کے ساتھ حسن سلوک کی حدیث گھر، کام اور ذمہ داری کے ماحول کے لیے بہت واضح سبق دیتی ہے۔ جس کے پاس اختیار ہو، اس کی زبان اور رویہ زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز یہ تھا کہ کم عمر یا خدمت کرنے والے انسان کو بار بار ڈانٹنے، ذلیل کرنے یا سخت الفاظ کہنے کے بجائے نرمی سے معاملہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خدمت کرنے والوں کے ساتھ سختی اور تذلیل سے بچنا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دس سال خدمت کرنے والے کو اف تک نہ کہا۔
- اختیار رکھنے والے شخص کو اپنے لہجے کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
