صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۷ - زمانہ، علم اور قتل کی کثرت

قیامت کی نشانیوں کی حدیث: علم کم، قتل زیادہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۳۷

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ الْقَتْلُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زمانہ جلدی جلدی گزرے گا اور دین کا علم دنیا میں کم ہو جائے گا اور دلوں میں بخیلی سما جائے گی اور لڑائی بڑھ جائے گی۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا «هرج» کیا ہوتا ہے؟ فرمایا قتل خون ریزی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع فتنہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ جلدی جلدی گزرے گا، عمل کم ہو جائے گا، دلوں میں بخل ڈال دیا جائے گا اور ہرج زیادہ ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، قتل۔ یہ قیامت کی نشانیوں کی حدیث انسان کو چونکاتی ہے، مگر اس میں بے جا اندازے لگانے کی جگہ نہیں۔ حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں، اسی حد تک بات کرنی چاہیے۔ اصل سبق یہ ہے کہ علم، عمل، سخاوت اور جان کی حرمت کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ جب قتل و خونریزی بڑھنے کا ذکر ہے تو مسلمان کو فساد سے بچنے اور جان کی قدر کرنے کا زیادہ احساس ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • علم اور عمل کی کمی کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • بخل دلوں میں آ جائے تو معاشرے کا مزاج خراب ہوتا ہے۔
  • قتل و خونریزی کو حدیث میں سنگین فتنہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں