صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۶ - پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک

پڑوسی کا حق: ہمسائے سے اچھا برتاؤ کرنے کی تعلیم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۸۶

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۶ کا خلاصہ

یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرئیل علیہ السلام ہمسائے کے بارے میں بار بار نصیحت کرتے رہے۔ حدیث کا پیغام بہت آسان ہے: جو لوگ ہمارے قریب رہتے ہیں، ان کے ساتھ ہمارا رویہ دینی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ ہمسایہ مسلمان ہو یا قریب رہنے والا عام پڑوسی، حدیث کے الفاظ سے کم از کم یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ پڑوس کے تعلق کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ گھر، گلی اور محلے میں اچھا ماحول اسی وقت بنتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ اس حدیث کے مطابق ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کوئی اضافی خوبی نہیں، بلکہ ایسی بات ہے جس کی مسلسل تاکید کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہمسایہ انسان کے روزمرہ تعلقات میں خاص مقام رکھتا ہے۔
  • پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ بار بار تاکید شدہ عمل ہے۔
  • محلے کا اچھا ماحول حسن سلوک سے بنتا ہے۔
  • ہمسائے کے حق کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں