صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۷ - ہمسائے کی عزت اور حق
ہمسائے کے حق کی اہمیت: بار بار کی گئی نبوی تاکید
صحیح مسلم : ۶۶۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۸۷
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل علیہ السلام مجھے ہمسائے کے بارے میں نصیحت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ پڑوسی کا معاملہ صرف سماجی آداب تک محدود نہیں، بلکہ دینی تعلیم کا حصہ ہے۔ انسان اپنے گھر والوں کے بعد سب سے زیادہ اپنے ہمسایوں سے واسطہ رکھتا ہے؛ اس لیے ان کے ساتھ اچھا سلوک، نرمی، خیال اور تکلیف سے بچانا بہت ضروری ہے۔ حدیث میں وراثت کا ذکر بطور خیال آیا ہے، جو اس حق کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہمسائے کو نظر انداز کرنا مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی کا حق بہت مضبوط اور اہم ہے۔
- ہمسایہ روزمرہ زندگی میں قریب ترین لوگوں میں سے ہے۔
- حسن سلوک صرف رشتہ داروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
- پڑوسی کو تکلیف سے بچانا اور اس کا خیال رکھنا ضروری اخلاق ہے۔
