صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۸ - کھانے میں ہمسائے کا خیال

کھانا پکاتے وقت ہمسائے کا خیال: عملی نیکی کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۸۸

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ : " إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ " .

ابوذر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! جب تو گوشت پکائے تو شوربا بہت رکھ اور خیال رکھ اپنے ہمسایوں کا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جب تم گوشت پکاؤ تو شوربا زیادہ رکھو اور اپنے ہمسایوں کا خیال رکھو۔ یہ تعلیم بہت عملی ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نیکی ہمیشہ بڑی رقم یا مشکل کام کا نام نہیں۔ کبھی ایک برتن میں پانی زیادہ کر کے بھی پڑوسی کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔ یہاں اصل بات ہمسائے کی خبر گیری ہے۔ اگر گھر میں کھانا بن رہا ہے اور قریب کے لوگ ضرورت مند ہوں یا ان کا خیال رکھا جا سکتا ہو تو بندہ اپنے کھانے میں سے حصہ دے۔ یہ حدیث حق ہمسایہ، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک، اور روزمرہ نیکی کی خوبصورت مثال ہے۔ اس میں دکھاوا نہیں، بلکہ سادہ محبت اور خیال ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھانا پکاتے وقت ہمسایوں کا خیال رکھنا نیکی ہے۔
  • چھوٹی سی چیز بھی پڑوسی کے لیے فائدہ بن سکتی ہے۔
  • حسن سلوک روزمرہ زندگی کے کاموں میں بھی شامل ہے۔
  • ہمسائے کی خبر گیری عملی انداز میں ہونی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں