صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۹ - شوربا زیادہ رکھو اور پڑوسی کو دو
ہمسائے کو کھانا بھیجنے کی حدیث: سادہ مگر خوبصورت نیکی
صحیح مسلم : ۶۶۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي إِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَأَكْثِرْ مَاءَهُ ، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ ، فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ " .
ابوذر روایت:
میرے جانی دوست نے مجھ کو وصیت کی کہ جب گوشت پکائے تو شوربا بہت رکھ اور اپنے ہمسایہ کے گھر والوں کو دیکھ، ان کو اس میں سے بھیج۔ (جانی دوست سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصیت کی کہ جب گوشت پکاؤ تو شوربا زیادہ رکھو، پھر اپنے ہمسایوں کے گھروں کو دیکھو اور ان میں سے کسی کو اچھے طریقے سے اس میں سے بھیجو۔ یہاں الفاظ میں خاص نرمی ہے: صرف شوربا بڑھانے کا حکم نہیں، بلکہ ہمسایوں کے گھر والوں کو دیکھنے کا بھی کہا گیا۔ یعنی بندہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے بے خبر نہ رہے۔ یہ حدیث پڑوسی کے حقوق، کھانا بانٹنے، اور گھریلو سطح پر خیر پھیلانے کی تعلیم دیتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیکی کے لیے بہت زیادہ مال لازم نہیں؛ جو موجود ہو، اسے اچھے طریقے سے بانٹا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہمسایوں کے گھروں کی خبر رکھنا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
- کھانے میں سے حصہ بھیجنا محبت اور خیال کا ذریعہ ہے۔
- نیکی موجود چیز سے بھی کی جا سکتی ہے۔
- دین روزمرہ گھریلو معاملات میں بھی بھلائی سکھاتا ہے۔
