صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۳ - جو معلوم نہ ہو اس میں صاف کہنا: مجھے معلوم نہیں
مجھے معلوم نہیں: رجم کے سوال پر علمی دیانت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۸۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۱۳
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ " سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : قَبْلَ سُورَةِ النُّورِ أَمْ بَعْدُ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي " .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
´مجھ سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا` کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے پوچھا: سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں (امر نامعلوم کے لیے اظہار لاعلمی کر دینا بھی امر محمود ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں شیبانی نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ پھر پوچھا گیا کہ یہ سورۃ النور سے پہلے تھا یا بعد؟ انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ اس حدیث میں رجم کا ذکر بھی ہے، مگر ایک بہت اہم تعلیمی بات بھی ہے: جس بات کا علم نہ ہو، اس میں صاف کہہ دینا کہ مجھے معلوم نہیں۔ یہ انداز علمی دیانت کو ظاہر کرتا ہے۔ عام زندگی میں بھی انسان کو ہر سوال کا جواب بنانا نہیں چاہیے۔ جہاں علم ہو وہاں جواب دے، اور جہاں علم نہ ہو وہاں خاموشی یا صاف اعتراف بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس بات کا علم ہو اسی کا جواب دینا چاہیے۔
- نہ معلوم بات میں “مجھے معلوم نہیں” کہنا درست علمی رویہ ہے۔
- عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے رجم کی تصدیق کی، مگر وقت کی تعیین نہیں کی۔
- دینی مسئلے میں اندازہ لگا کر بات نہیں کرنی چاہیے۔
