صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۹ - تورات میں آیت رجم چھپانے کا واقعہ
آیت رجم کو چھپانا: حق بات ظاہر کرنے والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۸۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۱۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ ، قَدْ أَحْدَثَا جَمِيعًا ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ ، قَالُوا : إِنَّ أَحْبَارَنَا أَحْدَثُوا تَحْمِيمَ الْوَجْهِ وَالتَّجْبِيهَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : ادْعُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالتَّوْرَاةِ ، فَأُتِيَ بِهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا ، فَقَالَ لَهُابْنُ سَلَامٍ : ارْفَعْ يَدَكَ فَإِذَا آيَةُ الرَّجْمِ تَحْتَ يَدِهِ : فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَرُجِمَا عِنْدَ الْبَلَاطِ ، فَرَأَيْتُ الْيَهُودِيَّ أَجْنَأَ عَلَيْهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ (اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہیں بلاط (مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ) میں رجم کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ یہودی عورت کو مرد بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کا واقعہ ہے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علماء نے چہرہ سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا بٹھانا مقرر کیا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے تورات منگوانے کو کہا۔ جب تورات لائی گئی تو ایک شخص نے آیت رجم پر ہاتھ رکھ لیا اور آگے پیچھے پڑھنے لگا۔ ہاتھ ہٹانے پر آیت رجم ظاہر ہوئی۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم سے دونوں کو رجم کیا گیا۔ اس حدیث میں حق چھپانے اور اصل حکم ظاہر ہونے کا واقعہ صاف بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حق بات کو چھپانا حدیث کے واقعے میں مذکور ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے متعلقہ کتاب سے حکم پوچھا۔
- عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آیت ظاہر کرائی۔
- واقعے میں آیت رجم سامنے آنے کے بعد حکم نافذ کیا گیا۔
