صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۰ - ماعز کے واقعے میں اقرار، حد اور کلمہ خیر
ماعز رضی اللہ عنہ کی توبہ، اقرار اور نبی صلى الله عليه وسلم کا کلمہ خیر
صحیح بخاری : ۶۸۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۲۰
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ ، جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أُحْصَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ ، فَرَّ ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرًا وَصَلَّى عَلَيْهِ " لَمْ يَقُلْ يُونُسُ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ : " فَصَلَّى عَلَيْهِ " . سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : " فَصَلَّى عَلَيْهِ يَصِحُّ " . قَالَ : رَوَاهُ مَعْمَرٌ ، قِيلَ لَهُ رَوَاهُ غَيْرُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : لَا .
جابر بن عبداللہ روایت:
قبیلہ اسلم کے ایک صاحب (ماعز بن مالک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زنا کا اقرار کیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا۔ پھر جب انہوں نے چار مرتبہ اپنے لیے گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم دیوانے ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تمہارا نکاح ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ آپ کے حکم سے انہیں عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن انہیں پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور ان کا جنازہ ادا کیا اور ان کی تعریف کی جس کے وہ مستحق تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں قبیلہ اسلم کے ایک شخص، ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ، کا واقعہ تفصیل سے آیا ہے۔ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور زنا کا اقرار کیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ انہوں نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا: کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پوچھا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ پھر رجم کا حکم ہوا۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ وہ بھاگے، پکڑے گئے، رجم مکمل ہوا، اور پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے بارے میں خیر کے کلمات فرمائے اور نماز جنازہ ادا کی، جیسا کہ اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اقرار کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے تحقیق کے سوالات فرمائے۔
- ماعز رضی اللہ عنہ نے چار بار اپنے خلاف گواہی دی۔
- رجم کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے حق میں خیر کے الفاظ کہے۔
- اس روایت میں نماز جنازہ کا ذکر بھی آیا ہے۔
