صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۵ - حد سے پہلے اقرار، عقل اور شادی شدہ ہونے کی تحقیق

حد زنا سے پہلے تحقیق: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۱۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنِّي زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، حَتَّى رَدَّدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ أَحْصَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ؟ "

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک صاحب ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے یہ بات چار دفعہ دہرائی جب چار دفعہ انہوں نے اس گناہ کی اپنے اوپر شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت فرمایا کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ وہ مسجد میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے بات چار دفعہ دہرائی۔ جب چار بار اپنے خلاف گواہی دے چکے تو نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس کے بعد رجم کا حکم ہوا۔ اس حدیث کا اہم پہلو یہ ہے کہ حد زنا کے معاملے میں اقرار کے بعد بھی تحقیق کی گئی، اور بات کو فوراً بغیر سوال کے آگے نہیں بڑھایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اقرار کے بعد بھی نبی صلى الله عليه وسلم نے تحقیق فرمائی۔
  • ماعز رضی اللہ عنہ نے اپنی بات چار بار دہرائی۔
  • عقل اور شادی شدہ ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا۔
  • حدیث حد کے معاملے میں احتیاط کا انداز دکھاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں