صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۵ - چار بار اقرار کے بعد حد کا حکم
چار مرتبہ اقرار، تحقیق اور رجم: ماعز رضی اللہ عنہ کا واقعہ
صحیح بخاری : ۶۸۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۲۵
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأبِي سَلَمَةَ ، أنَّ أبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : " أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَنَادَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي زَنَيْتُ يُرِيدُ نَفْسَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَجَاءَ لِشِقِّ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أَعْرَضَ عَنْهُ ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَحْصَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ؟ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاحب آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آواز دی یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ خود اپنے متعلق وہ کہہ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا منہ پھیر لیا۔ لیکن وہ صاحب بھی ہٹ کر اسی طرف کھڑے ہو گئے جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور وہ بھی دوبارہ اس طرف آ گئے جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور اس طرح جب اس نے چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا کیا تم پاگل ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا: جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص کا واقعہ ہے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنا منہ پھیر لیا، مگر وہ شخص پھر اسی طرف آ گیا اور دوبارہ اقرار کیا۔ ایسا ہوتا رہا یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دے دی۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا تم پاگل ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اسے لے جاؤ اور رجم کرو۔ حدیث حد زنا کے معاملے میں اقرار، تکرار اور تحقیق کی ترتیب دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس شخص نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے شروع میں منہ پھیر لیا، جیسا کہ روایت میں آیا ہے۔
- عقل اور شادی شدہ ہونے کی تحقیق کی گئی۔
- تحقیق کے بعد رجم کا حکم دیا گیا۔
