صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۴ - زنا کے اقرار میں واضح سوال کرنا
زنا کے اقرار میں تحقیق: بوسہ، اشارہ، نظر یا اصل فعل؟
صحیح بخاری : ۶۸۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۲۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ ، أَوْ غَمَزْتَ ، أَوْ نَظَرْتَ ، قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَنِكْتَهَا " لَا يَكْنِي ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ .
ابن عباس روایت:
جب ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تو نے بوسہ دیا ہو گا یا اشارہ کیا ہو گا یا دیکھا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کیا پھر تو نے ہمبستری ہی کر لی ہے؟ اس مرتبہ آپ نے کنایہ سے کام نہیں لیا۔ بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کا حکم دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ایک خاص زاویے سے بیان ہوا ہے۔ جب وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ شاید تم نے بوسہ دیا ہو، یا اشارہ کیا ہو، یا دیکھا ہو۔ انہوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے واضح سوال کیا کہ کیا واقعی ہمبستری ہوئی ہے؟ اس بار کنایہ نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد رجم کا حکم دیا گیا۔ اس حدیث کا اصل نکتہ یہ ہے کہ زنا کے اقرار میں بات کو واضح کیا گیا، تاکہ غلط فہمی نہ رہے۔ یہ متن بتاتا ہے کہ ہر اعتراف کو فوراً ایک ہی معنی پر نہیں لیا گیا بلکہ پہلے کم درجے کے امکانات پوچھے گئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اقرار کے معنی واضح کرنے کے لیے سوالات کیے گئے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے کم درجے کے امکانات پوچھے۔
- ماعز رضی اللہ عنہ نے ان امکانات کی نفی کی۔
- واضح جواب کے بعد ہی رجم کا حکم دیا گیا۔
