صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۲ - مزدور کے زنا کا شرعی فیصلہ

مزدور کے زنا کی حدیث: سو کوڑے، جلا وطنی اور رجم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۴۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أنهما أخبراه ، " أن رجلين اختصما إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَقَالَ الْآخَرُ : وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا ، أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ ، قَالَ : تَكَلَّمْ ، قَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، قَالَ مَالِكٌ ، وَالْعَسِيفُ : الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا ، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا .

ابوہریرہ اور زید بن خالد روایت:

دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور دوسرے نے جو زیادہ سمجھدار تھے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ مالک نے بیان کیا کہ «عسيف» مزدور کو کہتے ہیں اور اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی پھر جب میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کرنا ہے۔ رجم تو صرف اس عورت کو کیا جائے گا اس لیے کہ وہ شادی شدہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہیں پھر ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس مذکورہ عورت کے پاس جائیں اگر وہ اقرار کر لے تو اسے رجم کر دیں چنانچہ اس نے اقرار کیا اور وہ رجم کر دی گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس لائے۔ ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں، دوسرے نے تفصیل بیان کی۔ اس کا بیٹا دوسرے شخص کے ہاں مزدور تھا اور اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ پہلے اسے بتایا گیا کہ بیٹے پر رجم ہے، اس لیے اس نے سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی۔ پھر اہل علم سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال ملک بدری ہے، جبکہ رجم عورت کے لیے ہے کیونکہ وہ شادی شدہ ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے بکریاں اور لونڈی واپس کرائیں، لڑکے کو سو کوڑے لگوائے، ایک سال شہر بدر کیا، اور عورت کے اقرار پر رجم کرایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عسيف یعنی مزدور کا معنی روایت میں خود بیان ہوا ہے۔
  • غلط فدیہ واپس کیا گیا اور اصل حکم جاری ہوا۔
  • غیر شادی شدہ لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی آئی۔
  • شادی شدہ عورت کے بارے میں اقرار کے بعد رجم کا ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں