صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۳ - زنا کے مقدمے میں اقرار کی اہمیت
زنا کے مقدمے کی حدیث: اقرار کے بعد فیصلہ
صحیح بخاری : ۶۸۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۴۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أنهما أخبراه ، " أن رجلين اختصما إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَقَالَ الْآخَرُ : وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا ، أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ ، قَالَ : تَكَلَّمْ ، قَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، قَالَ مَالِكٌ ، وَالْعَسِيفُ : الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا ، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا .
ابوہریرہ اور زید بن خالد روایت:
دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور دوسرے نے جو زیادہ سمجھدار تھے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ مالک نے بیان کیا کہ «عسيف» مزدور کو کہتے ہیں اور اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی پھر جب میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کرنا ہے۔ رجم تو صرف اس عورت کو کیا جائے گا اس لیے کہ وہ شادی شدہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہیں پھر ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس مذکورہ عورت کے پاس جائیں اگر وہ اقرار کر لے تو اسے رجم کر دیں چنانچہ اس نے اقرار کیا اور وہ رجم کر دی گئی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۳ کا خلاصہ
یہ روایت زنا کے ایک مقدمے کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ دو آدمی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ چاہا۔ ایک شخص نے بتایا کہ اس کا بیٹا دوسرے کے گھر مزدور تھا اور اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ اس نے پہلے سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیہ میں دی، مگر اہل علم سے معلوم ہوا کہ لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فدیہ واپس کرایا، لڑکے پر حد جاری کی اور ایک سال شہر بدر کیا۔ پھر انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو عورت کے پاس بھیجا کہ اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کیا جائے۔ روایت میں آتا ہے کہ اس نے اقرار کیا، پھر رجم کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کرنے کی درخواست قبول ہوئی۔
- مالی فدیہ شرعی حد کا بدل نہیں بنا۔
- لڑکے اور عورت کے حکم میں فرق بیان ہوا۔
- عورت کے معاملے میں اقرار کے بعد رجم کا ذکر ہے۔
