صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۴ - تیمم کی آیت کے نزول کا واقعہ
تیمم کی آیت کا نزول: عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ
صحیح بخاری : ۶۸۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۴۴
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي ، فَقَالَ : " حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، فَعَاتَبَنِي وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي ، وَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ ، إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ " .
عائشہ روایت:
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہاری وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کو رکنا پڑا جبکہ یہاں پانی بھی نہیں ہے۔ چنانچہ وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مکا مارنے لگے مگر میں نے اپنے جسم میں کسی قسم کی حرکت اس لیے نہیں ہونے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک واقعہ بیان کرتی ہیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا سر مبارک ان کی ران پر تھا اور آپ آرام فرما رہے تھے۔ اسی وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہا کہ تم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور لوگوں کو روک رکھا ہے، حالانکہ یہاں پانی بھی نہیں۔ وہ ناراض ہوئے اور ہاتھ سے ان کی کوکھ میں مارنے لگے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حرکت نہ کی، کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم آرام فرما رہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ اس حدیث کا اصل موضوع تیمم کی آیت کا نزول ہے۔ روایت میں صبر، ادب، اور اس واقعے کے بعد آنے والی دینی آسانی کا ذکر صاف طور پر ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تیمم کی آیت اس واقعے کے بعد نازل ہوئی۔
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے آرام کا خیال رکھا۔
- واقعے میں پانی نہ ہونے کی حالت کا ذکر ہے۔
- حدیث میں مشکل حالت کے بعد حکم نازل ہونے کا بیان ہے۔
