صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۵ - ہار کے واقعے اور تیمم کا سبق

ہار کا واقعہ اور تیمم: عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۴۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً ، وَقَالَ : حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ ، فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَوْجَعَنِي نَحْوَهُ " . لَكَزَ وَوَكَزَ : وَاحِدٌ .

عائشہ روایت:

ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور زور سے میرے ایک سخت گھونسا لگایا اور کہا تو نے ایک ہار کے لیے سب لوگوں کو روک دیا۔ میں اس سے مرنے کے قریب ہو گئی اس قدر مجھ کو درد ہوا لیکن کیا کر سکتی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ «لكز» اور «وكز» کے ایک ہی معنی ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۵ کا خلاصہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہیں سخت گھونسا مارا، اور کہا کہ تم نے ایک ہار کے لیے سب لوگوں کو روک دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو شدید تکلیف ہوئی، یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا کہ میں درد کی وجہ سے مرنے کے قریب تھی، مگر وہ حرکت نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا سر مبارک ان کی ران پر تھا۔ اس روایت میں تیمم کی آیت کا ذکر پچھلی روایت کی طرح براہ راست نہیں، مگر واقعہ اسی سلسلے سے متعلق ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پہلو نبی صلى الله عليه وسلم کے آرام کا ادب، تکلیف برداشت کرنا، اور ہار کے واقعے کی وجہ سے لوگوں کے رکنے کا بیان ہے۔ متن کے آخر میں لكز اور وكز کے ایک معنی ہونے کی وضاحت بھی آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شدید تکلیف کے باوجود حرکت نہ کی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے آرام کا ادب روایت میں نمایاں ہے۔
  • واقعہ ہار کی وجہ سے لوگوں کے رکنے سے متعلق ہے۔
  • آخر میں عربی الفاظ لكز اور وكز کے معنی کی وضاحت آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں