صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۶ - لعان اور معاملے کا ظاہر ہونا

لعان کی حدیث: الزام، دعا اور شرعی فیصلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۵۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا ، فَقَالَ عَاصِمٌ : مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ ، سَبِطَ الشَّعَرِ ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ ، خَدِلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا ، فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ : هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ ، رَجَمْتُ هَذِهِ " فَقَالَ : لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر آیا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی پھر وہ واپس آئے۔ اس کے بعد ان کی قوم کے ایک صاحب یہ شکایت لے کر ان کے پاس آئے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو دیکھا ہے۔عاصم رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میں اپنی اس بات کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا گیا ہوں۔ پھر آپ ان صاحب کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی جس حالت میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا۔ وہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت، سیدھے بالوں والے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! اس معاملہ کو ظاہر کر دے۔ چنانچہ اس عورت کے یہاں اسی شخص کی شکل کا بچہ پیدا ہوا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ یہ وہی تھا جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا گواہی کے رجم کر سکتا تو اسے رجم کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ تو وہ عورت تھی جو اسلام لانے کے بعد برائیاں اعلانیہ کرتی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۶ کا خلاصہ

یہ لعان کی حدیث ایک حساس گھریلو معاملہ بیان کرتی ہے۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو دیکھنے کی شکایت کی۔ عاصم رضی اللہ عنہ اسے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس لے گئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے تفصیل سنی، پھر دعا فرمائی: اے اللہ! اس معاملے کو ظاہر کر دے۔ بعد میں بچے کی شکل اس شخص سے ملتی ہوئی پیدا ہوئی جس کا شوہر نے ذکر کیا تھا، پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ حدیث میں یہ بھی واضح ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دوسری عورت کے واقعے کو اس واقعے سے الگ بتایا۔ اس سے الزام، ثبوت اور شرعی کارروائی میں احتیاط کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لعان کا معاملہ نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے شرعی طریقے سے پیش کیا گیا۔
  • آپ صلى الله عليه وسلم نے معاملہ ظاہر ہونے کی دعا فرمائی۔
  • بچے کی مشابہت روایت کے واقعے میں ایک نشانی کے طور پر آئی۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو واقعات کو الگ الگ رکھا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں