صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۵ - بغیر گواہی سزا نہیں
بینہ کی حدیث: بغیر گواہی رجم نہ کرنے کا اصول
صحیح بخاری : ۶۸۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۵۵
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : " ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ : هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً عَنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ " . قَالَ : لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ .
قاسم بن محمد روایت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی عورت کو بلا گواہی رجم کر سکتا (تو اسے ضرور کرتا) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ وہ عورت تھی جو (فسق و فجور) ظاہر کیا کرتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع بینہ یعنی واضح گواہی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے دو لعان کرنے والوں کا ذکر ہوا، تو عبداللہ بن شداد نے ایک عورت کے بارے میں بات پوچھی جس کے متعلق یہ جملہ آیا تھا کہ اگر بغیر گواہی رجم کیا جا سکتا تو اسے کیا جاتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ وہ دوسری عورت تھی، جو برائی ظاہر کرتی تھی۔ اس روایت کا پیغام یہ ہے کہ سنگین الزام اور سنگین سزا میں صرف گمان یا مشہور بات کافی نہیں۔ رجم جیسے بڑے حکم کا تعلق گواہی اور شرعی ثبوت سے ہے۔ یہ بینہ کی حدیث انسان کو زبان، الزام اور فیصلے میں بڑی احتیاط سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنگین سزا کے لیے گواہی اور ثبوت کا معاملہ بہت اہم ہے۔
- کسی واقعے کو دوسرے واقعے سے ملا دینا درست نہیں۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دونوں واقعات میں فرق واضح کیا۔
- الزام کے معاملے میں جلدی اور غلط نسبت سے بچنا چاہیے۔
