صحیح بخاری حدیث ۶۸۷ - نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی بیماری اور نماز کی فکر

نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی آخری بیماری: نماز کی مسلسل فکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۷

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : بَلَى ، " ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ، قُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ ، قَالَ : ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ، قَالَتْ : فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَلَّى النَّاسُ ، قُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ، قَالَتْ : فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ، قُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ، فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ، فَقُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَام لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا ، يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ ، قَالَ : أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ يَأْتَمُّ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ : أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : هُوَ عَلِيُّ .

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ روایت:

میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا، کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت آپ ہم سے بیان کرتیں، (تو اچھا ہوتا) انہوں نے فرمایا کہ ہاں ضرور سن لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے عرض کی جی نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظام کر رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر آپ اٹھنے لگے، لیکن آپ بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش ہوا تو پھر آپ نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کی نہیں، یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا کہ لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل فرمایا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن (دوبارہ) پھر آپ بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش ہوا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ لگن میں پانی لاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی، لیکن پھر آپ بیہوش ہو گئے۔ پھر جب ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔لوگ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں۔ بھیجے ہوئے شخص نے آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے حکم فرمایا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ آخر (بیماری) کے دنوں میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا تو دو مردوں کا سہارا لے کر جن میں ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو! پھر آپ نے ان دونوں مردوں سے فرمایا کہ مجھے ابوبکر کے بازو میں بٹھا دو۔ چنانچہ دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بازو میں بٹھا دیا۔ راوی نے کہا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔عبیداللہ نے کہا کہ پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں گیا اور ان سے عرض کی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے کیا میں وہ آپ کو سناؤں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ۔ میں نے یہ حدیث سنا دی۔ انہوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۷ کا خلاصہ

یہ حدیث نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی بیماری کے دنوں کا تفصیلی بیان ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ بیماری بڑھ گئی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم بار بار پوچھتے رہے کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ صحابہ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے غسل کی کوشش کی، مگر کمزوری کی وجہ سے بار بار بے ہوشی ہوئی۔ آخر آپ صلى الله عليه وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم بھیجا۔ بعد میں جب کچھ ہلکا محسوس ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم دو آدمیوں کے سہارے ظہر کے لیے باہر آئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ امام تھے، آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں پیچھے ہٹنے سے روکا اور اپنے پاس بٹھوایا۔ اس حدیث میں نماز کی فکر، ابوبکر کی امامت، اور امام کی اقتدا کا عمل بہت صاف انداز میں آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شدید بیماری میں بھی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو نماز کی فکر رہی۔
  • ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا گیا۔
  • کمزوری کے باوجود آپ صلى الله عليه وسلم نے جماعت میں شرکت کی کوشش فرمائی۔
  • صحابہ نماز کے لیے مسجد میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں