صحیح بخاری حدیث ۷۱۳ - امامت نماز اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا

امامت نماز کی حدیث: ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۳

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ يَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تھے تو بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دینے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر ایک نرم دل آدمی ہیں اور جب بھی وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے لوگوں کو (شدت گریہ کی وجہ سے) آواز نہیں سنا سکیں گے۔ اس لیے اگر عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے تو بہتر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔پھر میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم کہو کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں اور اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے۔ اس لیے اگر عمر سے کہیں تو بہتر ہو گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ صواحب یوسف سے کم نہیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض میں کچھ ہلکا پن محسوس فرمایا اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر نشان کر رہے تھے۔ اس طرح چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے۔ جب ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے روکا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھ گئے تو ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۳ کا خلاصہ

یہ حدیث امامت نماز کے بارے میں ایک اہم واقعہ بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سخت بیماری میں تھے، پھر بھی نماز باجماعت کا معاملہ آپ صلى الله عليه وسلم کی توجہ میں رہا۔ جب بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے صاف فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، آپ صلى الله عليه وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو آواز نہیں سنا سکیں گے۔ مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ یہی حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی امامت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کی پیروی اصل بات ہے۔ بعد میں جب آپ صلى الله عليه وسلم نے کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو دو آدمیوں کے سہارے مسجد تشریف لائے۔ آپ صلى الله عليه وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلى الله عليه وسلم کی اقتدا کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے۔ اس حدیث میں جماعت کی نماز، امام کی پیروی اور نماز کے نظم کا واضح ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز باجماعت کا معاملہ بیماری کے وقت بھی اہم رہا، جیسا کہ حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کا مسجد آنا بیان ہوا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے واضح حکم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا گیا، اس لیے دینی حکم میں اطاعت ضروری ہے۔
  • ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نرم دلی کا ذکر آیا، مگر امامت کے حکم میں نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں ہی برقرار رکھا۔
  • نماز میں لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کی، جبکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں