صحیح بخاری حدیث ۷۱۲ - نماز باجماعت میں امامت اور تکبیر
نماز باجماعت کی حدیث: امامت، ابو بکر رضی اللہ عنہ اور تکبیر سنانا
صحیح بخاری : ۷۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ ، قُلْتُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِنْ يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِي فَلَا يَقْدِرُ عَلَى الْقِرَاءَةِ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ ، فَقُلْتُ : مِثْلَهُ ، فَقَالَ : فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ ، فَصَلَّى وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ الْأَرْضَ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ صَلِّ فَتَأَخَّرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَقَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِهِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ التَّكْبِيرَ " ، تَابَعَهُ مُحَاضِرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر خدمت ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر کچے دل کے آدمی ہیں اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رو دیں گے اور قرآت نہ کر سکیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔ میں نے وہی عذر پھر دہرایا۔ پھر آپ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ تو بالکل صواحب یوسف کی طرح ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کرا دی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنا مزاج ذرا ہلکا پا کر) دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے باہر تشریف لائے۔ گویا میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے کہ آپ کے قدم زمین پر نشان کر رہے تھے۔ ابوبکر آپ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن آپ نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھانے کے لیے کہا۔ ابوبکر پیچھے ہٹ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بازو میں بیٹھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر سنا رہے تھے۔عبداللہ بن داؤد کے ساتھ اس حدیث کو محاضر نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۲ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز باجماعت، امامت اور امام کی تکبیر سنانے کے بارے میں ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مرض الوفات میں تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رو دیں گے اور قراءت نہیں کر سکیں گے۔ مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بار بار یہی حکم دیا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ نماز کی امامت ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے، اور جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کسی کو مقرر فرمایا تو اس حکم کو ماننا ضروری تھا۔ بعد میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم دو آدمیوں کے سہارے مسجد تشریف لائے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پڑھاتے رہیں۔ پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تکبیر سناتے رہے۔ اس حدیث میں امامت کی ترتیب، ادب، اور جماعت کے اندر نظم کا صاف سبق موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز باجماعت میں امام کی تعیین سنجیدہ معاملہ ہے؛ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کے سامنے ذاتی عذر کو بار بار پیش نہیں کرنا چاہیے۔
- ابو بکر رضی اللہ عنہ کا پیچھے ہٹنا ادب کی وجہ سے تھا، مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ فرمایا۔
- اگر مقتدی امام کی تکبیر براہ راست نہ سن سکیں تو کوئی شخص انہیں تکبیر سنا سکتا ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔
