صحیح بخاری حدیث ۷۱۶ - ابو بکر رضی اللہ عنہ کی امامت

امامت نماز کی حدیث: ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۶

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي مَرَضِهِ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلّ لِلنَّاسِ ، قَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ : مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں فرمایا کہ ابوبکر سے لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ ابوبکر اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے آپ عمر رضی اللہ عنہ سے فرمائیے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ آپ نے پھر فرمایا کہ نہیں ابوبکر ہی سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ اگر ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد کر کے گریہ و زاری کی وجہ سے لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ سے کہئے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہہ دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بس چپ رہو، تم لوگ صواحب یوسف سے کسی طرح کم نہیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ بعد میں حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ بھلا مجھ کو تم سے کہیں بھلائی ہونی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۶ کا خلاصہ

یہ حدیث امامت نماز کے بارے میں ایک اہم واقعہ بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مرض الوفات میں تھے، اس وقت آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، اگر آپ صلى الله عليه وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگ ان کی آواز نہیں سن سکیں گے، اس لیے عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا جائے۔ مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بار بار یہی فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں۔ جب حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہی بات عرض کی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں روک دیا اور دوبارہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کا حکم دیا۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز باجماعت اور امامت کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے، اور جب نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم واضح ہو تو اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی نماز پڑھانے کے لیے متعین فرمایا۔
  • دین کے معاملے میں واضح حکم آجائے تو ذاتی رائے کو اس کے تابع رکھنا چاہیے۔
  • ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رونے کا ذکر ان کی نرمی اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے محبت کو ظاہر کرتا ہے۔
  • نماز باجماعت میں امام کی تعیین ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں