صحیح بخاری حدیث ۷۱۵ - سجدہ سہو: نماز میں بھول کی اصلاح

سجدہ سہو کی حدیث: نماز میں رکعت بھول جائے تو کیا کیا گیا؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، فَقِيلَ : " صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) ظہر کی صرف دو ہی رکعتیں پڑھیں (اور بھول سے سلام پھیر دیا) پھر کہا گیا کہ آپ نے صرف دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ پھر دو سجدے کئے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع سجدہ سہو ہے۔ حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں صرف دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے۔ اس واقعے سے نماز میں بھول، رکعت بھول جانا، اور سجدہ سہو کا طریقہ بہت سادہ انداز میں سامنے آتا ہے۔ یہاں حدیث صرف اسی واقعے کو بیان کرتی ہے کہ بھول معلوم ہونے کے بعد نماز کی کمی پوری کی گئی، سلام پھیرا گیا، پھر دو سجدے کیے گئے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے اصل بات یہی سمجھنی چاہیے کہ نماز میں غلطی سامنے آئے تو اسے درست کیا جاتا ہے، نہ کہ اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں بھول ہو جائے تو غلطی معلوم ہونے کے بعد اسے درست کیا جا سکتا ہے۔
  • اس واقعے میں دو رکعتیں کم رہ گئی تھیں، پھر دو رکعتیں مزید پڑھ کر نماز پوری کی گئی۔
  • اس حدیث میں سلام کے بعد دو سجدوں کا ذکر آیا ہے۔
  • نماز کی غلطی بتائی جائے تو بات کو سن کر اصلاح کرنا درست عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں