صحیح بخاری حدیث ۷۱۴ - سجدہ سہو: نماز کی بھول کا طریقہ
سجدہ سہو کی حدیث: نماز میں بھول ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
صحیح بخاری : ۷۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ : " أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ النَّاسُ : نَعَمْ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ظہر کی نماز میں) دو رکعت پڑھ کر نماز ختم کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور لوگوں کی طرف دیکھ کر) پوچھا کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دوسری دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھر سلام پھیرا۔ پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا پہلے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۴ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز میں بھول اور سجدہ سہو کے بارے میں ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے ادب کے ساتھ پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً لوگوں سے تصدیق کی کہ کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، باقی دو رکعتیں ادا کیں، سلام پھیرا، تکبیر کہی اور سجدہ کیا، جو عام سجدے جیسا یا اس سے کچھ لمبا تھا۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں رکعت کی بھول ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے بات کی تصدیق کی جائے، نماز مکمل کی جائے، اور اس صورت میں سجدہ سہو کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں بھول ہو سکتی ہے، لیکن اسے درست طریقے سے پورا کیا جاتا ہے۔
- کسی نمازی کی بات سن کر تصدیق کرنا درست عمل ہے، جیسا کہ اس واقعہ میں ہوا۔
- رکعت رہ جائے تو اس روایت میں پہلے باقی رکعتیں پوری کی گئیں، پھر سلام کے بعد سجدہ کیا گیا۔
- دینی معاملے میں سوال ادب کے ساتھ کیا جائے، جیسے ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کیا۔
