صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۹ - گھر میں جھانکنے والے پر سخت تنبیہ
بلا اجازت جھانکنے پر تنبیہ: گھر کی حرمت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۸۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۸۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، " أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَدَّدَ إِلَيْهِ مِشْقَصًا " ، فَقُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ ، قَالَ : أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ .
حمید روایت:
ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف تیر کا پھل بڑھایا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث تم سے کس نے بیان کی ہے؟ تو انہوں نے بیان کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع گھر کی حرمت اور نظر کی حفاظت ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک رہا تھا، تو آپ نے اس کی طرف تیر کا پھل بڑھایا۔ یہ عمل اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کسی کے گھر میں چھپ کر یا بلا اجازت دیکھنا بہت ناپسندیدہ کام ہے۔ گھر انسان کی نجی جگہ ہے، جہاں اس کے اہل خانہ، آرام اور پردے کا حق ہوتا ہے۔ اسلام میں اجازت صرف دروازہ کھٹکھٹانے کا نام نہیں، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کی نظر وہاں نہ پڑے جہاں اسے دیکھنے کی اجازت نہیں۔ اس حدیث میں پرائیویسی کی حفاظت کا صاف پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر میں جھانکنا گھر کی حرمت کے خلاف ہے۔
- نظر کی حفاظت اجازت کے ادب کا بنیادی مقصد ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بلا اجازت دیکھنے پر سخت تنبیہ فرمائی۔
