صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۸ - اجازت کے بغیر جھانکنے کی ممانعت
اجازت کے بغیر جھانکنے کی حدیث: گھر کی پرائیویسی کا حق
صحیح بخاری : ۶۸۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۸۸
وَبِإِسْنَادِهِ " لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ " .
´اور اسی اسناد کے ساتھ` (روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اگر کوئی شخص تیرے گھر میں (کسی سوراخ یا جنگلے وغیرہ سے) تم سے اجازت لیے بغیر جھانک رہا ہو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نہیں ہے نہ گناہ ہو گا نہ دنیا کی کوئی سزا لاگو ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع گھر کی پرائیویسی اور اجازت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانک رہا ہو، اور گھر والا اسے کنکری مارے جس سے اس کی آنکھ کو نقصان پہنچ جائے، تو گھر والے پر کوئی گناہ یا سزا نہیں۔ حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر جھانکنا معمولی بات نہیں، بلکہ یہ گھر والوں کی عزت، پردے اور سکون پر حملہ ہے۔ یہاں اجازت لینے کی اہمیت صاف نظر آتی ہے۔ اس حدیث کو غصے یا زیادتی کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اصل سبق یہ ہے کہ کسی کی نجی جگہ میں بلا اجازت نظر ڈالنا سخت منع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکنا منع ہے۔
- گھر والوں کی پرائیویسی کا حق مضبوط ہے۔
- اجازت کا حکم نظر کی حفاظت کے لیے ہے۔
